ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستانی عدلیہ میں بغاوت کے لئے بی جے پی ذمہ دار:راجنا کانگریس رکن کے ریمارکس پر بی جے پی برہم ، ریمارکس ریکارڈس سے خارج کرنے کامطالبہ

ہندوستانی عدلیہ میں بغاوت کے لئے بی جے پی ذمہ دار:راجنا کانگریس رکن کے ریمارکس پر بی جے پی برہم ، ریمارکس ریکارڈس سے خارج کرنے کامطالبہ

Thu, 08 Feb 2018 12:01:26    S.O. News Service

بنگلورو،7؍فروری(ایس او نیوز) اپوزیشن بھارتیہ جنتاپارٹی ( بی جے پی) نے آج ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے ایک سینئر رکن کے ریمارکس کی سخت مخالفت کی۔کانگریس‘ گورنر کے خطبہ پر تحریک شکریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدلیہ میں بغاوت کے لئے بی جے پی کے قومی صدر ذمہ دار ہیں ۔ بی جے پی نے کانگریس رکن کے این راجنا کے ان ریمارکس کوریکارڈ سے خارج کرنے کابھی مطالبہ کیا۔ ایوان میں یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب راجنا گورنر کے خطاب پر تحریک شکریہ پیش کررہے تھے ۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس رکن نے کہا کہ عدلیہ میں گڑ بڑ اس وقت پیدا ہوئی کیونکہ خصوصی سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی موت سے متعلق معاملہ کی سماعت کی بنچ کو تبدیل کیا گیا ۔ جسٹس لویا سہراب الدین شیخ مدبھیڑ معاملہ کی سماعت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں بغاوت پیدا کرکے بی جے پی نے ایک نیاریکارڈ قائم کیا ہے ۔ بی جے پی نے ایک ایسی صورتحال پیدا کی جہاں ججوں کو پریس کانفرنس منعقد کرنی پڑی ۔ بی جے پی نے اس طرح ملک کی عدلیہ میں بغاوت پیدا کی۔راجنا نے ایوان کو بتایا کہ یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ جسٹس لویا کی موت کے معاملہ کی بنچ تبدیل کی گئی اور اس کی ہدایت بی جے پی صدر امیت شاہ نے دی تھی۔ راجنا کے ان ریمارکس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ اس معاملہ کا تعلق گورنر کے خطاب سے نہیں ۔ وہ شخص جو ایوان میں حاضر نہیں اس پر ریمارکس کرنا درست نہیں ۔ اس مرحلہ پر اسمبلی میں اپوزیشن بی جے پی لیڈر جگدیش شیٹر نے پوائنٹ آف آرڈر اٹھا تے ہوئے اس معاملہ پر رولنگ دینے اسپیکر سے مطالبہ کیا ۔ اس وقت ڈپٹی اسپیکر شیو شنکر ریڈی اسپیکر کی کرسی پر تھے نے کہا کہ وہ اس معاملہ پر اپنی رولنگ محفوظ کرتے ہیں۔ اس مرحلہ پر راجنا نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بحث میں کسی بھی شخص کا نام نہیں لیا ہے پھر کیوں آپ ضابطوں کا حوالہ دے رہے ہو۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کا حوالہ دیتے ہوئے راجنا نے کہاکہ آپ لوگ دستورمیں تبدیلی کی بھی باتیں کررہے ہیں۔ اس مرحلہ پر شیٹرنے کہا کہ اگرآپ ایوان میں ان لوگوں پر الزامات لگا رہے ہو جوایوان میں حاضر نہیں توہم کانگریس صدرراہل گاندھی اور پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی سے متعلق یہ کہیں گے کہ نیشنل ہیرالڈ کے معاملہ میں دونوں ضمانت پر ہیں ۔ دونوں سیاسی حریفوں کے درمیان لفظی جھڑپ زور پکڑی جب راؤڈی شیٹر کا معاملہ زیر بحث آیا ۔ راجنا نے اپنی تقریر کے دوران یہ حوالہ دینے کی کوشش کی کہ نریندر مودی وزیراعظم بننے سے قبل امریکہ نے انہیں ویزا جاری کرنے سے انکار کیاتھا۔راجنا نے کہا کہ پچھلے دنوں آپ( بی جے پی) نے یہ جاننا چاہا کہ کس پارٹی لیڈران روڈی فہرست میں ہیں۔ ہم میں سے اکثر اس فہرست میں شامل ہیں لیکن ہم سے کسی کو بھی ویزا دینے سے انکار نہیں کیا گیا ۔ لیکن چند لوگوں کووزیراعظم بننے تک ویزا دینے سے انکارکیا گیا۔اس معاملہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ایم ایل اے سی ٹی روی نے کہا کہ اب وہی امریکہ اس شخص کے استقبال کیلئے سرخ کارپیٹ بچھا رہا ہے ۔ اس سے واضح ہے کہ پارٹی ایک ہی خاندان کے حق میں ہے وہ نہیں چاہتے کہ ایک چائے بیچنے والے کووزیر اعظم کی کرسی پر دیکھیں ۔ وزیر اعظم کے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے راجنا نے کہا کہ وہ روزگار پیدا کرنے کو پکوڑے فروخت کرنے سے جوڑ رہے ہیں۔سی ٹی روی نے دوبارہ برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب چائے بیچنے والا وزیر اعظم بن سکتا ہے ،جب ایک چرواہا وزیر اعلیٰ ہوسکتا ہے تو پکوڑے بیچنے کے معاملہ میں برائی کیا ہے؟


Share: